کچھ علاج اِس کا بھی اے ! چارہ گراں ہے کہ نہیں

دِل   کے   ٹکڑوں   کو  بغل  بیچ   لئے  پھر تا   ہوں
کچھ علاج اِس کا بھی اے ! چارہ گراں ہے کہ نہیں

(مرزا محمّد رفیع سوؔدا)

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔